About Us



 

 

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم  

                                                                                             

oاَلحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلَام’‘ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ ا صْطَفیٰ ٓءٰٓ اللّٰہُ خَیْر’‘ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ

اِ س ویب سایئٹ ”ثقلِ اکبر“کا مقصد:۔

نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشادِ اقدس ہے جس کا مفہوم ہے ”میں تم میں دو ثقلیں یعنی دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک ثقلِ اکبر یعنی نہایت بڑی گرانقدر چیز اور و ہ اللہ کی کتاب قرآن ِحکیم ہے اور دوسری ثقلِ اصغر جو میرے اہلِ بیت ؑ ہیں، جب تک تم اِن دونوں سے وابسطہ رہو گے تم یقینی ہدایت پر ہو گے الخ“،اور مکتبِ اہلِ بیت ؑ کے بارہ آئمہ ؑ سے مروی متواتر و مسلمہ حدیث ہے جسے میں حدیثِ جدار کہتا ہوں،اِس کا ترجمہ ہے ”ہر حدیث کو اللہ کی کتا ب(ثقلِ اکبر) پر پیش کرو جو اِس کے مطابق ہو اُسے لے لو اورجو اِس کے مخالف ہو اُسے دیوار پر دے مارو“،تو پتا چلا کہ ثقلِ اصغر یعنی اہلِ بیت ؑ بھی ثقلِ اکبر یعنی قرآنِ مجید کے پابند ہیں اور موجودہ زمانے میں اہلِ اسلام کے دو بڑے مکاتبِ فکر کی رسائی فقط ثقلِ اکبر تک ہی ہے اورثقلِ اکبر ہی وہ اکیلا اورواحد ذریعہ ہے کہ اگر ہم مسلک اور فرقے سے بالا تر ہو کر اِس سے وابستہ ہو جائیں اور اِس کی قطعیت،حجیت اور بُرھانیت کو عملا ً اور اعتقاداً تسلیم کر لیں تو ہم تمام مسلمان ”بڑے بڑے“ جزوی اختلافات کے باوجود اللہ کے فضل سے فرمان ِ رسول ِاعظم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مطابق جسدِواحد بن سکتے ہیں کہ یہی کتاب اقدس اللہ کی رسی ہے کہ جس سے اِعتِصام کا حکم اور اور فرقہ واریت کی مناہی اِس کتاب ِ لاریب کی ایک ہی آیت میں آئی ہے(اٰل عمران۔103)۔اللہ شاہد ہے کہ آج ہم تمام مسلمان صرف اِسی صورت دین و دنیا کی فلاح پا سکتے ہیں کہ ہم قرآن کو معیار بناتے ہوئے انسانوں کی لکھی ہوئی تمام کتب ِاسلامی سے استفادہ کریں اس طرح کہ جو قرآن کے خلاف ہو اُسے رد کر دیں جو اس کے مطابق ہو اسے قبول کر تے جائیں۔
اِ ن شاء اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری تمام ترفکر الحمد للہ قرآن ہی کو قبلہ ئ فکر مان کر فقط اِسی کا طواف کرتی نظر آئے گی۔الحمد للہ ہماری دعوت فرقہ واریت کی آلودگی سے ہر طرح پاک ہے اور ہم ہر مسلک کی ہراُس چیز کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں جو صراحت کے ساتھ قرآنِ حکیم کے مطابق ہے اگرچہ وہ ہمارے ذاتی مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور ہر مسلک کی ہراُس چیز کو رد کرنا فرضِ انسانی جانتے ہیں جو قرآن کے خلاف ہو اگرچہ وہ ہمارے ذاتی مسلک کی بنیاد ہی کیوں نہ ہو،مسلک کو ہم ذاتی چیز قرار دیتے ہیں اور دین کو ہم اجتماعی ورثہ گردانتے ہیں،اِس لیے دین مسلک پر نہیں بلکہ مسلک دین پر قربان کرنا دین و دنیا کی سعادت ہے۔یہ مسلکوں ہی کہ نحوست ہے کہ آج ہم سورہ ئ انعام کی اِس آیت کریمہ کا مصداق بنے ہوئے ہیں ”قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُوْنَ ہ۵۶“(اے رسولؐ! ان وعدہ خلاف مشرکوں سے) کہہ دے ”وہ (اللہ) اِس
بات) پر قدرت(رکھنے)والاہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں باہم گروہوں میں خلط ملط کر دے اور (یوں) تمہارے بعض  کو بعض کی سختی کا مزہ چکھا دے“(اے رسولؐ!)دیکھ تو سہی کہ ہم کس طرح آیتوں کو الٹ پھیر کر (یعنی مختلف پیرایوں میں

بار بار)بیان کرتے ہیں تاکہ وہ (یعنی لوگ)سمجھ بوجھ سے کام لیں (65)
ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم قرآن حکیم سے ہر مسلمان کی بالخصوص اور ہر انسان کی بالعموم عملی و فکری اجنبیت کو دُور کرنے کی حتی الوسع کوشش کریں اور قرآن عظیم سے تعلقِ تسلیم کوجہاں تک ہو سکے تحریک دینے کی سعی کریں۔

ع اپنا پیغام تو قرآں ہے جہاں تک پہنچے۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                                                    

آئیے مسلک و فرقہ کی انسانی سطح سے بلند تر ہو کر فکرِ انسانی کے اعلی ٰ ترین رہبر،ہدایت کے قطعی ترین وسیلے،حق و باطل کے عظیم ترین فرقان، صداقت کے ارفع ترین برھان یعنی رحمان کی انسان پر بے مثال رحمت قرآن کے لیے مل کر کام کریں تاکہ اللہ کے فضل سے ایک طرف ہم
تعانوا علی البر والتقویٰ کے فرمان کی تعمیل کے قریب تر ہو سکیں اور دوسری جانب خیرکم من تعلم القرآن و علمہ کے ارشادِنبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) کے مصداق بن پائیں۔ اللہ ہمیں اِس سعادت ِعظمیٰ کی توفیق مرحمت فرمائے کہ اُس کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔
اللہ ہمیں دنیا اور آخرت میں قرآن ِعزیز کے ذریعے عزت عطا فرمائے۔اٰمین۔ احقر سید علی اسد سجاد ردائی
oالحمد للّٰہ رب العٰلمین

www.saqleakbar.com